ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلمینٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ میں فلسطینی مزاحمت کو ہتھیار کی پیداوار کے لئے ضروری ٹیکنالوجی دے کر اس کی اس ضرورت کو پورا کیا ہے۔
انہوں نے جمعرات کو العالم سے خصوصی انٹرویو میں اس سوال پر کہ فلسطینی مزاحمت کے پاس راکٹ ایران کے بنے ہوئے ہیں، کہا کہ فلسطینیوں کو کچھ چیزوں کی واقعی ضرورت ہے اور کبھی کبھی بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں ایسی باتیں کی جاتی ہیں جن کا فلسطین کی موجودہ صورت حال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایران کی پارلمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ہمیں اس بارے میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ غزہ کے عوام کی ہر قسم کی مدد کریں۔ اس وقت غزہ کے مزاحمت کار اچھی پوزیشن میں ہیں اور توانا ہیں اور اپنی ضرورت کے ہتھیار بنا رہے ہیں البتہ ایک وقت جب انہیں ہتھیار بنانے کی ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی تو ہم نے ان کو دیا۔
انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عرب اور مسلمان ممالک کے پاس بھی ہتھیار ہیں اور وہ تیل یا گیس جیسے منابع سے سرشار ہیں لیکن فلسطینیوں کی تھوڑی سی بھی مدد نہیں کرتے، فلسطینی عوام کی مدد کو اسلامی فریضہ قرار دیا اور اس ضمن میں ایران کی طرف سے کئی جا رہی کوششوں پر زور دیا۔
ایران کے اسپیکر نے حضرت امام خمینی (رح) کے اس بیان کی وضاحت میں کہ اگر دنیا کا ہر مسلمان اسرائیل پر ایک ایک بالٹی پانی ڈال دے تو اسرائیل کا وجود ختم ہو جائے گا، کہا کہ امام خمیني کا یہ بیان تمثیلی ہے اس معنی میں کہ مسلمان اپنی پوری توانائی کا استعمال نہیں کر رہے ہیں اور بے معنی باتوں میں مشغول ہیں۔ فلسطینی عوام کی حقیقی ضرورت پر توجہ دی جائے جو خود میں ایک دفاع ہے اور انہیں ایسے حالات مہیا کرائے جائیں کہ جب وہ صیہونیوں کے حملوں کا نشانہ بنیں تو صیہونیوں کو اپنے اوپر متعدد قسم کے ہتھیار کا تجربہ کرنے کی اجازت نہ دیں۔ اس طرح ہتھیار اور مادی وسائل ان کی ضرورت ہیں تاکہ وہ زندگی گزار سکیں۔
انہوں نے غزہ پر صیہونی حکومت کے جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی وزیر اعظم کا یہ بیان کہ مزاحمت کاروں کی موجودگی کی وجہ سے غزہ کے اسکولوں اور اسپتالوں پر بمباری کر رہے ہیں، جنگی جرائم کی واضح مثال ہے کیونکہ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کر رہے ہیں لیکن ان مقامات کا فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہوا یا نہیں یہ تو بعد میں ثابت ہوگا۔
.......
/169